اشاعتیں

اگست, 2017 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

نعت : کرم سے اُن کے تشنہ غیر رہ جائے یہ ناممکن

تصویر
نعت کرم سے اُن کے تشنہ غیر رہ جائے یہ ناممکن درِ  آقا  سے  خالی  لوٹ کر  جائے  یہ ناممکن یذیدی فوج اَپنے شر سے باز  آئے یہ ناممکن مگر اِبن ِ علی  واپس  چلا  جائے  یہ  ناممکن زمانہ سازشِ باطل  سے باز  آئے  یہ نا ممکن مگر  قومِ مسلماں  مات کھا  جائے  یہ  نا ممکن نبی  کے  لاڈلے  نے  گھر  لُٹا  کر سر کَٹایا ہے شہادت  کا  یہ  درجہ  دوسرا  پائے  یہ نا ممکن  غلام  شاہِ  بطحا  غم  کو  سینہ  سے  لگاتا  ہے غلام شاہِ  بطحا  غم  سے  گھبرائے  یہ  ناممکن چراغ  راہ  طیبہ  کی طرح  روشن اگر ہم ہوں زمانے کی ہوا  پھر ہم سے ٹکرائے  یہ ناممکن میرے آقا رہیں بھوکے یہ ممکن عین ممکن ہے مگر سائل کوئی بھوکا چلا جائے یہ ناممکن شفاعت آپ کی محشر میں ڈھونڈے گی غلاموں کو شفاعت سے کوئی محروم رہ جائے یہ ناممکن نماز و روزہ و  حج  و  زکاة ...